ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساگر میں جامع مسجد کی تجدید کاری کو لے کر تنازعہ : دوگروہوں کے درمیان جھڑپ کے بعد پولس لاٹھی چارج 

ساگر میں جامع مسجد کی تجدید کاری کو لے کر تنازعہ : دوگروہوں کے درمیان جھڑپ کے بعد پولس لاٹھی چارج 

Mon, 16 Mar 2020 18:38:06    S.O. News Service

ساگر(شیموگہ) :16؍مارچ(ایس اؤ نیوز) تالاب کنارے واقع شہر کی جامع مسجد کی تجدید کو لے کر ایک گروہ کی طرف سے تنازعہ کی کوشش کے بعد  دو گروپوں کے درمیان  جھڑپ ہوئی، جس کے بعد  پولس نے لاٹھی چارج کرتےہوئے سبھوں کو  منتشر کردیا۔ بتایا گیا ہے کہ  جب دونوں گروپس آپس میں ہاتھا  پائی کرتےہوئے ایک دوسرے پر پتھراؤ کرنا شروع کیا تو پولس نے لاٹھی چارج کیا۔

ذرائع سے ملی اطلاع کے مطابق جامع مسجد کی تجدید کو لےکر ایک گروہ نے الزام عائد کیا کہ مسجد کی تعمیر اصولوں کی خلاف ورزی کرتےہوئے کی جارہی ہے۔ اسی معاملے کو لے کر اے سی دفتر میں  رکن اسمبلی ہرتال ہالپا کی صدارت میں دونوں گروہوں کے لیڈران کی میٹنگ طئے کی گئی تھی۔ دفتر میں دونوں گروہ بات چیت میں مصروف تھے تو ادھر مسجد کے پاس دونوں گروہوں کے لوگ جمع ہورہے تھے۔ ایک گروہ نے مندر اورمسجد کے درمیان واقع نالی بند کرنے کا الزام عائد کرتےہوئے مٹی نکالنے لگے ۔جس کی ایک اور  گروہ نے مخالفت کی۔

اے سی دفتر سے نکل کر لیڈران نے معاہدے کی تفصیل سمجھانی چاہی اسی دوران  ایک گروہ نے الزام لگایا کہ مخالف گروپ نے ’پاکستان زندہ باد ‘ کے نعرے لگائے ہیں۔  کہا جارہا ہے کہ اسی بات کو لے کر ایک گروپ نے جئے شری رام کے نعرے لگاتے ہوئے دیش دروہیوں کو گرفتار کرنےکی مانگ کرنے لگے۔ اسی بات کو لے کر  دونوں گروہوں کے درمیان جھڑپ شروع ہوگئی۔

ایک گروپ کے ذمہ داران کا کہنا تھا  کہ انہوں نے پاکستان زندہ باد کو کوئی نعرہ نہیں لگایا، ہم نے تو صرف   اللہ کے نام پر نعرے لگائے تھے مگر جھوٹی باتیں پھیلا کر ایک فرقے کے بعض لوگوں نے  غلط اور بے بنیاد الزام عائد کرکے  ہمیں  دیش دروہی کہا ہے ، لہٰذا ایسے لوگوں کو فوراً  گرفتار کیا  جائے۔ 

حالات بگڑتے دیکھ کر پولس نے لاٹھی چارج کیا تو گروہوں کے درمیان پتھربازی ہونے لگی۔ کہا جارہا ہے کہ  شہری پولس انسپکٹر کی پیشانی پر بھی چوٹ لگی ہے۔  میونسپالٹی ممبران ٹی ڈی میگھ راج اور سابق نائب صدر سید اقبال نے جائے وقوع پر پہنچ کر دونوں گروہوں کو مطمئن کرنے کی کوشش کی ۔

اسسٹنٹ کمشنر ڈاکٹر ایل ناگراج نے بتایا کہ پورے واقعہ کی وڈیو گرافی کی گئی ہے ، خاطیوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ مگر ان کی باتوں پر  ایک گروہ مطمئن نہیں ہوا۔جب مخالف گروپ نے کہا کہ انہوں نےپاکستان زندہ باد کانعرہ نہیں لگایا ہے اور اگر ایسا کوئی نعرہ  لگانے کا ثبوت ہے تو پیش کریں  تو پھر اسی بات پر معاملہ ختم ہوگیا۔

WhatsApp_Image_2020-03-16_at_5_17_47_PM.jpeg


Share: